دنیائے انٹرنیٹ پر پہلی اردو نستعلیق کی خوبصورتی والی سائیٹ پر خوش آمدید بند کریں

شعر و سخن

  • 1
  • 2
  • 3
Prev Next

ابیات

ابیات

اسرار کی دیوار پر ایک نوشتہ ہوں میںصدیاں گذر گئی مگر تو نے نہ دیکھا مجھ کو! .......................

مزید پڑھیں

خواب - نظم

خواب - نظم

(خواب) رات یوں خواب میں تم مہکائی،میرے وجود کے آنگن میں جیسے پھول کھلے،میری حیات کی یہ رات شب رات بنی!

مزید پڑھیں

وصال - نظم

وصال - نظم

(وصال) جب جز کا کل سے وصال ہوگا۔۔۔جب بحر میں قطرہ مل جائے گا۔۔۔پھر کیا ہے ساگر، کیا ہے قطرہ!تب سحرٍ دوئی کا ٹوٹے گا۔۔جب ہم...

مزید پڑھیں

مضامین

  • 1
  • 2
  • 3
Prev Next

دھماکوں سے ڈرائو، اور حکومتیں کرو۔۔ امریکا اور پاکستان

بٹوارے کرائو اور حکومتیں کرو (Divide & Rule) کا دؤر ہوگا، بلکل تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد خصوصی طور پر سرد جنگ والے دور میں تو یہ طاقتور ممالک کا مرغوب ترین ہتھکنڈہ تھا۔ لیکن امریکا...

مزید پڑھئیے

سوال، سوالی، آداب

سوال، سوالی، آداب

"استاد محترم، مجھے بتائیے کہ وجدان تک پہنچ کیسے ہوسکتی ہے؟"یہ سوال تھا پچھلی صدی کے اوائل میں پورے یورپ اور مغربی روس کے علائقوں میں اپنی روحانی دھاک بٹھانے والے جارج گرڈجیف کا جو اس نے...

مزید پڑھئیے

مسیحا یا مہدی سے سپرمین تک

مسیحا یا مہدی سے سپرمین تک

سچ تو یہ ہے کہ میں بالکل کھل کر نہیں بولتا، ہاں کبھی کبھار بول بھی لیتا ہوں لیکن دلائل کے ساتھ!اصل میں، جو میں سمجھ رہا ہوں وہ یہ کہ انسان بنیادی طور پر چاہے کتنا...

مزید پڑھئیے

شاہ جو رسالو

  • 1
  • 2
Prev Next

سر مارئی

فصل اول   'الست برکم' آئی جب یہ صدا، قالو بلیٰ قلب سے تب تھا میں کہا، کیا تھا تب وعدہ، میں نے "ماروؤں" سے. --- جب سے کن فیکون تب سے پریت میں جکڑا من کاہے پریت کے ماروں کو یوں، کیا ہے...

مزید پڑھئیے

سر سارنگ

سُر سارنگ     فصل اول   کہے لطیف کہ دیکھ تو بادل، چھائی کالی بدرا، ریوڑ لاؤ ڈھلواں پہ، چھم چھم برسی برکھا، چھوڑ کے کٹیا میدانوں میں، لاؤ ساماں سارا، والی ہے جو سب کا، آس رکھو اس مولا کی. ---- کہے لطیف کہ دیکھ...

مزید پڑھئیے

امر فیاض کے بارے میں

فیاض ان گنت ابواب پر مشتمل ایسی نادر کتاب ہے جس کے ہر صفحے اور ہرسطر میں اسکی زندگی کا وہ تجربہ بولتا ہے

فیاض جو امر بھی ہے اور امر ہونا اللہ کی کی خصوصیت ہے جو اس نے اپنی بہت سی خصوصیات کی طرح اپنے منتخب،چنیدہ اور پیارے بندوں کو عطا کی ہیں۔ میرا ہمیشہ سے یہ ایمان ہے کہ ہمارے ہاں نام بلاوجہ نہیں رکھے جاتے۔نوے فیصد ناموں کے اثرات اور ماہیت ہوتی ہے۔ فیاض کا نام جس کسی نے بھی رکھا بلا سوچے سمجھے نہیں رکھا اور اس نام کے ساتھ امر کا اضافہ بھی کوئی بے معنی نہیں۔ نام کے دونوں حصے اپنی اپنی جگہ پر فیاض کی شناخت ہیں۔ یہ بلاگ کی دنیا اندھی دنیا ہے۔ یہاں کتنے ہی لوگوں کو یہ ادراک ہی نہیں ہوتا کہ ان کے درمیان لکھنے اور بولنے والا آدمی کس قد کاٹھ کا ہے۔ ایسا ہی کچھ فیاض امر کے ساتھ ہوا ہے۔ فیاض کو ہمارے ہاں لوگوں نے پہچانا ہی نہیں۔ وہ روایتی قلم کار یا فکری گفتگو کرنے والا نہیں بلکہ قلب کی کسوٹی پر تحریر کو سان کر کے قلم چلاتا ہے ۔ فیاض ان گنت ابواب پر مشتمل ایسی نادر کتاب ہے جس کے ہر صفحے اور ہرسطر میں اسکی زندگی کا وہ تجربہ بولتا ہے جو اس نے گرمیوں کی دوپہروں سے اور راتوں کی خاموشی سے کشید کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ساتھ کیسا کیسا سابقہ لاحقہ لگایا ہوا ہے اور انہی سابقوں لاحقوں کے درمیان وقت ایسے پر لگا کر گزرتا رہتا ہے کہ اسکےقدموں کی چاپ بھی سنائی نہیں دیتی۔

صفدر ہمٰدانی
(ایڈیٹر عالمی اخبار، ادیب اور براڈ کاسٹر)